منگل, مارچ 5, 2013

نظریہ سازش (Conspiracy Theory)

0 تبصرے
روز مرہ کے اخبارات و رسائل پڑھیے یا ٹیلی وژن پر سیاسی تجزیے سنیے، بہت سے تجزیہ نگار، صحافی بلکہ مذہبی علما بھی یہ خیال پیش کرتے نظر آتے ہیں کہ دنیا بھر کی قومیں ہمارے خلاف سازش کر رہی ہیں۔ ہم خود کو دنیا کا مرکز سمجھتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ دنیا کو اس کے سوا اور کوئی کام نہیں ہے کہ وہ ہمارے خلاف سازش کرے۔ ہمارے لوگ، خواہ وہ مذہبی ہوں یا نہ ہوں، اپنے ذہن میں کسی سازش کا تانا بانا ترتیب دیتے ہیں اور پھر انکشاف کرنے کے سے انداز میں اس سازش کو بیان کرنے میں فصاحت و بلاغت کا زور صرف کر دیتے ہیں۔ یہ حضرات اٹھارہویں صدی سے جاری امت مسلمہ کے اس زوال کو اہل مغرب کی سازش قرار دیتے ہیں۔ ان کے نظریہ تاریخ میں مغرب و مشرق کی اقوام امت مسلمہ کے خلاف مسلسل سازشیں کرتی نظر آتی ہیں۔ انہی سازشوں کو یہ حضرات امت کے زوال کا سبب قرار دیتے ہیں۔ اہل پاکستان کو یہ خیال یہ ہے کہ بھارت ان کے خلاف مسلسل سازشیں کرنے میں مشغول ہے اور اسی طرح عرب دنیا میں اسرائیل کی سازشوں کا تذکرہ ہے۔ ان سازشی تھیوریز کو پھیلانے میں سب سے اہم کردار ہمارے جاسوسی اور تاریخی ناول نگاروں نے ادا کیا ہے۔
یہ معاملہ صرف ہمارے ہاں ہی نہیں ہے بلکہ دنیا کی دیگر اقوام کا معاملہ بھی یہی ہے۔  اہل مغرب کے ہاں بھی ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو ہمہ وقت اپنی قوم کو مسلمانوں کی سازشوں سے آگاہ کرتے ہیں۔ یہ اسلامو فوبیا  (Islamophobia)یعنی اسلام کا خوف  اپنے لوگوں میں پھیلانے میں مشغول ہیں اور ان کا کہنا یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کی امیگریشن کا راستہ نہ روکا گیا اور موجودہ مسلمانوں کو مغرب سے نکال باہر نہ کیا گیا تو ایک وقت آنے والا ہے جب اسلام یورپ اور امریکہ کا غالب مذہب ہو گا اور ان کی وہ آزادیاں چھین لی جائیں گی  جنہیں انہوں نے بڑی قربانیوں کے بعد حاصل کیا ہے۔ پھر ان کی خواتین کو حجاب پہننا پڑے گا اور انہیں اپنے مذہب پر عمل کی آزادی حاصل نہیں ہو گی۔  اسی طرح بھارت کی انتہا پسند تنظیموں کے لٹریچر کا مطالعہ کیا جائے تو وہ بھی مسلمانوں اور عیسائیوں کو سازش کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں اور انہیں ہندو مذہب کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں۔
اصل میں ہوتا یہ ہے کہ سازشی نظریات کی مدد سے لوگوں کے جذبات سے کھیلنا آسان ہوتا ہے۔ ہر قوم میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو منفی سیاست کرتے ہیں۔ ان کے لیے بہت آسان ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کی سازش کا ذکر کر کے لوگوں کے جذبات سے کھیلیں اور اس طریقے سے اپنی سیاسی قوت میں اضافہ کریں۔ اس قسم کے لوگ ہمارے ہاں بھی پائے جاتے ہیں اور غیر مسلم اقوام کے ہاں بھی۔  جن قوموں میں جہالت اور منفی سوچ پائی جاتی  ہے، وہاں یہ سیاست دان زیادہ کامیاب رہتے ہیں لیکن جن قوموں میں علم اور شعور پایا جاتا ہے، وہاں یہ ناکام رہتے ہیں۔
اس سازشی سوچ کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان منفی طرز فکر کا شکار ہو جاتا ہے۔ وہ یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ دشمن نے بہت سے ایجنٹ اس کے ملک میں چھوڑ رکھے ہیں جو اس کی جڑیں کاٹنے میں مشغول ہیں۔ ایسا شخص اپنے گرد و نواح میں موجود ہر دوسرے شخص  کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس کے بارے میں بدگمانی جیسے گناہ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ مثلاً ہمارے ہاں دیکھیے کہ جتنے بھی فرقے  اور مذہبی جماعتیں ہیں، ان میں سے ہر ایک یہ سمجھتا ہے کہ وہ راہ راست پر ہے اور بقیہ تمام فرقے اور جماعتیں انگریزوں کی سازش کے نتیجے میں وجود میں آئے ہیں۔ اس مرض کو سائیکاٹری کی اصطلاح میں پیرا نوئیا (Paranoia) کہا جاتا ہے اور جب یہ کسی معاشرے میں پھیل جائے تو پوری قوم پیرا نوئیا کا شکار ہو جاتی ہے۔  اس میں جو لوگ انتہا تک پہنچتے ہیں، وہ اپنے سوا ہر کسی کے خلوص پر شک کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ فلاں، فلاں قوت کا آلہ کار اور ایجنٹ بنا ہوا ہے اور ان کے ایجنڈے پر عمل کر رہا ہے۔
جب انسان سازشی نفسیات میں مبتلا ہو جاتا ہے تو وہ دوسروں کے خلاف بدگمانی جیسے بڑے گناہ کا ارتکاب کرنے میں بھی حرج محسوس نہیں کرتا۔ اس وقت وہ قرآن مجید کی اس ہدایت کو فراموش کر دیتا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ۖ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَحِيمٌ.
اے اہل ایمان! بہت گمان کرنے سے بچا کیجیے کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔ (ایک دوسرے سے متعلق) تجسس نہ کیا کیجیے اور نہ ہی آپ میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا آپ میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ یقیناً آپ اس سے کراہت محسوس کریں گے۔ اللہ سے ڈرتے رہیے، یقیناً اللہ توبہ قبول کرنے والا اور ہمیشہ رحمت فرمانے والا ہے۔ (الحجرات 49:12)
یہ بات تو درست ہے کہ جب دو افراد یا قوموں میں کوئی کشمکش چل رہی ہو تو وہ ایک دوسرے کے خلاف سازشیں کرتے ہیں لیکن یہ سازشیں کبھی کبھار ہی رو بہ عمل ہوتی ہیں اور ان کا دائرہ اثر ہمیشہ محدود ہوتا ہے۔ سازش کے کامیاب ہونے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ مخالف کی کسی کمزوری کو استعمال کیا جائے۔   اگر یہ کمزوری نہ ملے تو سازش ناکام ہو جاتی ہے۔ اسے ہم ایک مثال سے واضح کرتے ہیں۔ فرض کیجیے کہ کوئی شخص سازش کے ذریعے کسی میاں بیوی میں علیحدگی کروانا  چاہتا ہے اور اس میں اس کا کوئی مفاد ہے۔ اگر ان میاں بیوی کے رشتے میں اعتماد، محبت اور  خلوص پایا جاتا ہو گا تو اس شخص کی سازش کبھی کامیاب نہ ہو سکے گی۔ لیکن اگر ان میں بدگمانی،  شک اور نفرت پائی جاتی ہو تو یہ سازش کامیاب ہو جائے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بھی ان کے خلاف بہت سی سازشیں ہوئیں مگر وہ ناکام رہیں کیونکہ ان میں  یہ کمزوریاں نہیں پائی جاتی تھیں۔ عہد زوال میں یہ سازشیں کامیاب ہو گئیں کیونکہ خود مسلمانوں میں کمزوریاں پائی جاتی تھیں۔  اس وجہ سے امت کے زوال کا اصل سبب دشمنوں کی سازش نہیں بلکہ ہماری اپنی کمزوری ہے۔
سازشی نظریات میں مبتلا ہونے کا سب سے بڑ انتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسا ن اپنے مسائل کی وجہ اپنے اندر نہیں بلکہ دوسروں میں ڈھونڈتا ہے اور ہر وقت ایک منفی طرز فکر کا شکار رہتا ہے۔ اٹھارہویں صدی میں انگریزوں کے مقابلے میں سراج الدولہ کی شکست(1761)کو میر جعفر اور ٹیپو سلطان کی شکست (1799) کو  میر صادق کے ذمے ڈال کر ہم مطمئن ہو جاتے ہیں کہ  اگر یہ غدار نہ ہوتے تو ہم زوال پذیر نہ ہوتے۔ حالانکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم تجزیہ کرتے کہ یہ غدار ہمارے اندر ہی کیوں پیدا ہوئے؟ انگریزوں کے اندر ایسے غدار پیدا کیوں نہیں ہوئے جو اندر ہی اندر سراج الدولہ یا ٹیپو سلطان سے مل جاتے اور اپنی قوم کو شکست سے دوچار کرتے؟ جیسے انگریزوں نے سراج الدولہ اور ٹیپو سلطان کی افواج میں غدار تلاش کرنے کی کوشش کی تھی، بالکل ایسی ہی کوشش مسلمانوں نے بھی کی ہو گی، کیا وجہ ہے کہ انگریز ہماری صفوں میں غدار تلاش کرنے میں کامیاب رہے جبکہ ہم ناکام؟
اسی منفی نفسیات کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم خود ترسی کا شکار رہتے ہیں۔ 1920 کے آس پاس کا زمانہ امت مسلمہ کے سیاسی اور معاشرتی زوال کا کلائمیکس تھا۔ اس کے بعد سے امت کے حالات بہتر ہونا شروع ہوئے اور تقریباً سو برس کے اس عرصے میں ہم بہت بہتر ہو چکے ہیں۔ لیکن اب بھی دیکھیے کہ ہمارے بہت سے مصنفین اسی زوال کا رونا رو رہے ہیں۔ یہ حضرات اس بات پر اللہ تعالی کا شکر ادا کرنےسے قاصر ہیں کہ 1920 کے مقابلے میں آج ہم بہت بہتر مقام پر کھڑے ہیں اور امت مسلمہ اپنے زوال کے انتہائی نقطے کو چھونے کے بعد الحمد للہ ترقی کی طرف گامزن ہو چکی ہے اور امید ہے کہ اگلے سو برس میں ہم مزید بہتر مقام پر پہنچ چکے ہوں گے۔
ہونا یہ چاہیے کہ ہم دوسروں کی سازشوں کو بے نقاب کرنے میں اپنی قوت صرف کرنے کی بجائے اپنی کمزوریوں کی اصلاح کریں۔ دنیا پرستی، لالچ، حسد، بغض، بدگمانی، غیبت، تجسس، تکبر، منفی طرز فکر  اور اس نوعیت کے بہت سے امراض ایسے ہیں جو ہمارے ہاں موجود ہیں جن کی وجہ سے  ہم زوال پذیر ہوئے۔ اگر ہم اپنے اندر آخرت پرستی، بے نفسی، باہمی محبت، اخوت، عجز و انکسار، مثبت طرز فکر اور خدا پرستی پیدا کر لیں تو اگر ہمارے خلاف کوئی سازش ہو گی بھی تو وہ ناکام رہے گی۔  اس کے بعد اگر ہمیں کسی سازش کا علم ہو تو اسے بغیر تحقیق آگے پھیلا دینے کی بجائے اپنے ملک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو یہ معلومات دیجیے جن کی ذمہ داری ہی یہ ہے کہ وہ ان سازشوں کی تحقیق کر کے ان کا حل نکالیں۔ بغیر تحقیق بات کو آگے پھیلا دینے سے ہم جھوٹ، بدگمانی اور تجسس کے مجرم بنیں گے اور اس کے لیے ہمیں اللہ تعالی کے حضور جواب دہ ہونا پڑے گا۔
غور فرمائیے!!!
۱۔ سازشی نظریات کے انسانی نفسیات اور معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟
۲۔ سازشی نظریات کی بجائے ہمیں کس جانب توجہ دینی چاہیے؟
مصنف : محمد مبشر نذیر
نقل شدہ : http://www.mubashirnazir.org/PD/Urdu/PU02-0082-Conspiracy.htm

0 تبصرے:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

برائے مہربانی دھیان سے تبصرہ کیجیئے کیونکہ آپ کی زبان آپ کی شخصیت کا آئینہ ہوتی ہے، بے موقع و محل اورلایعنی تبصرہ آپ کی بات کی اہمیت کو کم کردیتی ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔